بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ اسی بنیاد پر، بہت سی آزاد بین الاقوامی شخصیات نے اُن کی شہادت کے موقع پر ویڈیو بیانات جاری کئے جن میں سے ایک سنگاپور کے رہائشی وکیل اور "عوامی آواز" پارٹی کے رہنما بیرسٹر لم ٹین (Lim Tean) ہیں جن کا بیان کچھ یوں ہے:
تیسری اور آخری قسط:
پیریکلیس (Pericles) جب پیلوپونیسی کی جنگ (Peloponnesian War) کے پہلے سال کے اختتام پر اسپارٹا کے خلاف ایتھنز کے مقتولین کی قبروں پر کھڑے ہوکر خطاب کر رہا تھا، تو اس نے محض اُن کی بہادری کی بنا پر مرنے والوں کی تعریف نہیں کی، بلکہ اُنہیں ان چیزوں کی بناپر بھی سراہا جو اُنہوں نے بنائی تھیں اور ان کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا تھا: وہ شہر جس کے ادارے، طرزِ زندگی اور اس کا آئین جان قربان کرنے کے قابل تھا۔

اس نے کہا: "سپاہی کی عظمت شہر کی عظمت سے الگ نہیں ہے۔" آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی کہانی میں بھی اسی منطق کا ایک حصہ جھلک رہا ہے۔ ملک کی پائیداری (Sustainability)، قوم کی پائیداری سے الگ نہیں تھی؛ ایک ایسی قوم جو محض اپنے رہبر کی مرضی [اور حکم] کی وجہ سے قائم اور پائیدار نہیں رہی، بلکہ اس لئے قائم اور ثابت قدم رہی کہ اُن کے پاس ایسی چیز تھی جو دفاع کے قابل تھی: آئین پر مبنی ایک نظام، ایک تہذیبی شناخت، اور ایک آزاد حکمرانی جو حقیقی معنوں میں اُن کی اپنی تھی۔
پیریکلیس نے ایک بات کہی جو دہرانے کے قابل ہے: "خوشی کا راز (Secret of happiness) آزادی ہے؛ اور آزادی کا راز بہادری ہے۔" گٍذشتہ 47 سالوں میں ایران کی ثابت قدمی اجتماعی بہادری پر مبنی عمل تھا؛ ایک ایسا نظام جو قائم رہا کیونکہ عوام قائم رہے؛ اور عوام قائم رہے کیونکہ نظام، اپنے بنیادی پہلوؤں میں، اُن کا اپنا تھا۔ اس بات کا خطاب ان تمام قوموں سے ہے جنہوں نے آج تک اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی جرأت دکھائی ہے۔
میں سے ایرانی عوام سے مخاطب ہوکر سوگ کے اس لمحے میں اپنی دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ آپ نے ایک ایسا رہبر کھو دیا ہے جو زمین کی طاقتور ترین قوتوں کے سامنے نہیں جھکا۔ جیسا کہ آپ مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ایران اور سنگاپور کے درمیان دوستی بڑھے گی؛ دو ایسی قومیں جو ہر ایک اپنے طور پر سمجھتی ہیں کہ ایک ہنگامہ خیز دنیا میں ایک آزاد راستہ تراشنے کا کیا مطلب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ